میں سارے غم بھلا چکی ہوں
کہ تیری محفل سے آچکی ہوں
خواب کی خواہشوں کے ساتھ ہی
میں آپ اپنا گلا دبا چکی ہوں
تری عنایت سے محروم ہو کر
میں آئینے میں مسکرا چکی ہوں
سدا کی سادہ دل میں رہی تھی
سادگی سے تجھے گنوا چکی ہوں
چہرے کا کی ا یہ جھوٹ بولتا ہے
میں روح پہ زخم کھا چکی ہوں
چلوں گی ہر راہ سر اٹھا کر
کہ کج روی بھی نبھا چکی ہوں
زندگی کوئی اور زخم نہیں اب
جو چرکہ تھا میں کھا چکی ہوں
عذرا مغل
ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دیں گے