دستورِ حالات کی قفس
وابستگانِ زیست چاہنے سے سب نہیں ملتا کہ دستورِ حالات کی قفس ہیں ہم ۔ یہاں کے چلن…
ادراک کے جہانوں کا مسافر
کم نظر احتیاج نظارہ جو کچھ بھی ہے موقوفاس پر تیری بینائی کو مجال حصار کہاںکہ ایک عالم…
صدائیں بے نام سی
صدائیں بے نام سیگنگ لبوں پہ سلی ہوئی ہیںاسم کا اشارہ نہیںکسی صوت کا سہارا نہیںکہوں تو کیا…
تصوراتی خوشی
جب چل نہ پاؤ زمیں پریہ مشورہ ہےاپنی تصوراتی خوشیساتھ لے لوصدیاں گزار کر،میلوں چل کر بھیتکان نہ…
زمیں سے قد آدم اوپر
ساری بستی میںپوری آنکھیں کھول کردیکھتی چلی آئیبالآخر جہاں فصلوں میںبالیاں جھوم رہی تھیںمیں بھی رقص کرنے سےباز…