وہ کسی بات پر جھنجھلایا ہوگا اگر
ہو بھی سکتا ہے کہ بشر تھا
اور اپنوں سے آگے بڑھا ہوگا
سب جھٹک کر
تب شائید خدا نے پیار سے پکارا ہوگا
اس کی محبوبیت پر
کھیعص
آگے مضمون تو محبت تھا
محبت سے محبت کی حجت تھا
حروف مقطع میں جو پوشیدہ تھا
وہ سراسر پیغام الفت تھا
راز کا رازداں سے منکشف ہونے کو
اک رمز بھرا کنایہ ء قدرت تھا !
جو کھلتا ہے کبھی
کبھی کھل کے بند ہوجاتا ہے
You May Also Like
Ashaar – اشعار
- By
Azra Mughal
- July 16, 2024
Ashaar : صبر بھی ہے شکر بھی ہے سبحان اللہخاک پائےنبی سرمہ سا بھی ہے ماشا اللہ کوئی…
ایمان اور شفا: امکان سے یقین تک کا سفر
- By
Aslam Murad
- September 4, 2024
مجھ پر ایک شب کے بعد ہے طلوع سحربے وجہ نہیں کھلا کا خواب رنگینوہ ایک تصور ہے،…
ہجرتوں کی داستان کرب
- By
Azra Mughal
- April 8, 2024
ہجرتوں کی داستان کرباور وہ سبجو ماضی کی گرد میںکہیں دب گیا ہےجب بھی جھاڑ پونچھ کر….. صیقل…
Puranay Log – پرانے لوگ
- By
Azra Mughal
- March 18, 2025
نیا زمانہ مگر پرانے لوگپاگل پاگل سے سیانے لوگوہ دادا جی ہو کر بھیہمکتا بچہ سا بن جاتا…