افسوس

میٹھے پانی کی شربتی لذتوں کی قسم
کھارے پانی کا ذائقہ
آنسوؤں کے نمک سے میٹھا سا ہے
یوں تو چکھے ہیں سارے ہی ذائقے
مگر زہر خند جو دنیا کے لہجے کا ہے
افسوس بہت ساری باتوں کا ہے
اس سرد پیشانی کی بے جان کلفتوں کا بھی ہے
شہر آزار میں کہاں تلک وہ جیتا مگر
کہ ہر دن چڑھا نت نئی ذلتوں کا سفیر
جا گزیں رہ جاتی ہے کمی کوئی نہ کوئی
دل پہ جانے والوں کا حساب رہتا سا ہے
ذلتوں کے مارے لوگ ہیں یہ
کس آسانی سے بے موت مرتے ہوئے
ہاہ ! دیکھ لے اے دنیا مگر
تجھ سے بھی اور خود سے بھی
یہ پشیماں نفس ، کوتاہ جبیں، ہر طرف سے جیسے ہارے ہوئے
کوئی بازی نہ ان کی ترکیب لڑی
کوئی پانسہ نہ انکا پلٹا گیا
ایک دل تھا ۔۔۔ سہولت سے کام آگیا
!!جیسے سارا حساب اس نے چکتا کیا

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Read More

آبله پائ

بےکراں مسافتوں کیآبله پائمرهم گل سے کیامٹا چاهےانگ انگ میں پهیلی هےآرزو کی تھکنلهو نکال کے سارا بدل…
Read More
Glass pices
Read More

زوال

حسن اک زوال میں تھابکھرے ماہ و سال میں تھا وقت کی بےدرد چالوں پہآئینہ بھی سوال میں…
Read More