ابو جی

میں دادو ہاسٹل میں تھی جب قریبا شام سات بجے لاہور گھر سے فون آیا کہ ابو جی گم ہوگئے ہیں صبح سے گھر سے نکلے تھے شام چار بجے تک واپس نہیں آئے تو ڈھنڈیا شروع ہوئی وہ آس پاس بلکہ کچھ دور تک بھی کہیں نہیں مل رہے ۔۔۔۔میرے خدا دسمبرجنوری کی سرد یخ بستہ رات اسی بیاسی سے زیادہ ان کی عمر ۔۔۔حواس بھی پچھلے کچھ عرصے سے بدحواسی اور خود فراموشی کی طرف مائل اکثر گھر سے ایک لین آگے بیکری پر جاکر بیٹھے بچوں بڑوں سے گپ شپ کر آتے تھے زیادہ سے زیادہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ اس سے آگے خود بھی جانے سے گھبراتے تھے کہ لاہور کے رستوں اور ٹریفک سے بالکل نامانوس تھے ۔۔۔میری تو جان ہی نکل گئی گھر میں سوائے امی کے سب رون ہاکے تھے امی ہمیشہ کی طرح بچوں کو حوصلے میں رکھنے کی پوری کوشش کر رہی تھیں مگر اندر سے وہ شائید سب کی اور اپنی گھبراہٹ کو اکیلے سر جوانمردی سے جھیل رہی تھیں اور اندر ہی اندر دیگیں اور مختلف نیازیں مان رہی تھیں پرس میں صرف دو تین ہزار تھے ایک دوست کو فون کیا بیس ہزار بھجوا دے چیک لکھ کر ساتھ ہی بھیجا کہ صبح کیش کروالینا مجھے رات کو ہی لاہور کے لئے نکلنا ہے یہ مسئلہ ہوگیا ہے خیر بہرحال پہلی دستیاب ڈائیوو سے مورو ٹو لاہور سیٹ لی ٹیکسی پر مورو پہنچی نذر چوکیدار کے ساتھ گیارہ بجے لاہور کے لئے روانہ ہوئی اس دوران مسلسل گھر والوں سے اور سارا لاہور چھانتے بھائیوں سے منٹ منٹ پر رابطے میں تھی کسی کل چین نہیں آرہا تھا اتنی سرد رات کہاں ہونگے کیسے سہہ رہے ہونگے انہیں تو کوئی راستہ بھی نہیں پتہ یوں لگتا تھا جیسے چند سال کا کوئی بچہ گم ہوگیا ہو تینوں بھائی بھی سڑکوں پرلاوارث سوئے ہوئے لوگوں کو بھی جگا جگا کر دیکھ رہے تھے ہاسپٹل پولیس اسٹیشن سب چھان مارے ۔۔۔۔میں اکیلی ڈائیوو میں پڑھ پڑھ کے منتیں مان مان کر آدھ موئی ہوئی جارہی تھی لگ رہا تھا ابو اب کبھی نہیں ملیں گے اور ان کا گم ہوجانا اتنا روح فرسا تھا کہ بس۔۔۔۔ مرے کو صبر آجاتا ہے زندہ اور گمشدہ پہ کیسے صبر آئے گا بس سب نیم پاگل ہوگئے تھے جیسے۔۔۔کہ کہاں ڈھونڈیں کیا کریں۔۔۔؟ دسمبر کی یخ بستہ ساری رات رل کر صبح دس بجے مایوس گھر آگئے تھے
کہ نہیں ملے کہیں بھی
بہاول پور صبح گیارہ بجے فون کی رنگ بجی ۔۔۔
” ابو مل گئے ہیں”
شکر کا اتنا پرسکون احساس ہوا کہ ناقابل بیان ہے
کہاں کیسے ؟
ہم ایدھی سینٹر میں ہیں پولیس اسٹیشن والوں نے ایدھی سینٹر فون کیا تو
سلطان احمد نام کے ایک بزرگ شخص جو اپنے والد کا نام میرداد بتا رہے ہیں اور بیٹے کا نام عمران ( باقی سب بچوں کے نام بھی یاد نہیں آرہے تھے گھبرا کر) بیکری کے قریب گھر ہے کل سے راستہ بھول گئے تھے کوئی ایدھی سینٹر چھوڑ گیا ایدھی صاحب کو بھی دعائیں دیں اور اللہ کا بھی شکر ادا کیا ۔۔۔ زمینی بستر پر لیٹے ہوئے تھے گھبرائے ہوئے مایوس سے بچوں کو دیکھا تو خوشی سے کھل اٹھے جیب میں جو پیسے تھے گھڑی تھی خوشی سے ساتھ بیٹھے شخص کو دے دی کہ اب میں گھر جارہا ہوں۔۔۔ گھر آئے تو پتہ چلا کہ گھڑی میں سٹرپ ڈلوانے گئے تھے روڈ پہ پوچھتے پوچھتے آگے نکل گئے اور موڑ مڑتے ہی اتہ پتہ راستہ سب بھول گئے گھبرا کر ۔۔۔اس کے بعد ان کی جیب میں ایڈریس اور نام وغیرہ لکھ کر رکھ دیا گیا اور گھر سے ان کا اکیلے باہر نکلنا ممنوع ہی ہوگیا ذرا بیکری تک جانے کے لئے نکلتے گھر کا سب سے چھوٹا بچہ بھی کوشش کرتا ان کے ساتھ جائے گم نہ ہو جائیں پھر۔۔۔وہ کچھ کچھ مائل بہ شرارت ہوجاتے اور ایڈریس جیب سے نکا ل کر بچوں کی آنکھ بچا کر نکلنے کی کرتے کہ ۔۔۔ایک دن بچوں کی غیر موجودگی میں وہ نکل لئے مجھے محسوس ہوا تو ان کے پیچھے دوڑ لگائی
“ابو جی چلو گھر۔۔۔ “
“او۔۔ میں ہنے آنا واں بیکری توں ہو کے”
چہرے کی شریر مسکراہٹ سے مجھے لگا اب وہ تجرباتی طور پر ایدھی سینٹر جانا چاہتے ہیں
میں نے کلاوہ بھرلیا اور خاصی زور زبردستی کے بعد تقریبا اٹھا کر گھر لانے میں کامیاب ہوگئی ۔۔۔ گھر آکر امی کو احوال دیا تھوڑی دیر دونوں بوڑھے بوڑھی کی تو تو میں میں چلی ۔۔۔ پھر ان سے وعدہ کیا جونہی کوئی بچہ اسکول سے آئے گا آپ کو بیکری تک گھمانے لے جائے گا اکیلے نہیں جانا ہم ان کے لئے چھوٹے بچے سے بھی زیادہ حساس ہوگئے تھے اور حقیقتا اب وہ گھر کا سب سے لاڈلا چھوٹا بچہ ہی بن گئے تھے۔۔۔ اور بیٹیاں تو یوں بھی ہوش سنبھالتے ہی ماں باپ کی بھی ماں ہی بن جاتی ہیں ان کے اس دنیا سے پردہ کرتے کرتے میں ان کی چھوٹی سی بیٹی سے پوری ماں بن چکی تھی اور میری یہی مامتا آخری دم تک میری ماں کے نام بھی رہی اللہ میرے ماں باپ دونوں کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں انہیں ایک ساتھ بہترین جگہ دے آمین ثم آمین

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دیں گے

Shares

SHARE

TWEET

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Mother Language title
Read More

ماں بولی

!پنجابیو پنجابی بولوپنجابی لکھوپنجابی پڑھوایویں تے نئیں میں سکھ لئی سی یار پنجابیماں بولی سی جمدیاں میرے نال…
Read More