!بھولپن کی ایک نظم

Young girl smiling

!بھولپن کی ایک نظم
اگر میں پرندہ ہوتی
اس وقت کیا کر رہی ہوتی؟
اڑ رہی ہوتی موج کر رہی ہوتی…. اور کیا پاگل
اگر میں بلی ہوتی
اس وقت کیا کر رہی ہوتی؟
دودھ سے پیٹ بھر کر کے سو رہی ہوتی
یا خالی پیٹ میاؤں میاؤں کر رہی ہوتی…. اور کیا پاگل
اگر میں شیر ہوتی
اس وقت کیا کر رہی ہوتی؟
جنگل میں چہل قدمی اور شکار کی تلاش……. اور کیا پاگل
اگر میں درخت ہوتی
اس وقت کیا کر رہی ہوتی؟
لہرا رہی ہوتی نئی کونپلوں کی پھوٹتی خوشبو اور ہوا کے ساتھ…… اور کیا پاگل
اگر میں دھرتی ہوتی
اس وقت کیا کر رہی ہوتی
روندی جارہی ہوتی مسلی جا رہی ہوتی مگر سبزے سے نکھرتی جارہی ہوتی …..اور کیاپاگل
اگر میں رب ہوتی
اس وقت کیا کر رہی ہوتی
مجھے کیا پتہ سارا دن کیا کرتا رہتا ہے
نہ اسے روزہ نہ نماز کی فکر
نہ حج نہ زکوات
نہ کھانے کی نہ پینے کی نہ سونے کی
نہ بال نہ بچہ نہ بیوی
موجیں کرتا ہے دن رات….. اور کیا پاگل

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Read More

آبله پائ

بےکراں مسافتوں کیآبله پائمرهم گل سے کیامٹا چاهےانگ انگ میں پهیلی هےآرزو کی تھکنلهو نکال کے سارا بدل…
Read More
Glass pices
Read More

زوال

حسن اک زوال میں تھابکھرے ماہ و سال میں تھا وقت کی بےدرد چالوں پہآئینہ بھی سوال میں…
Read More