شاعری

A woman portrait

آورد اور آمد ایک ساتھ
شاعری کا عالمی دن ہے تو چلو کوشش کرتے ہیں
آورد کو آمد میں بدلنے کی
یہ نہیں ہوگا بھئی ۔۔۔
شاعری کوئی ڈش تو نہیں
جب چاہا پکالی
اور منہ کا ذائقہ بدل لیا
لہو میں لہرا کر
ادھم مچا کر
تاپ چڑھا کر
یہ بیماری کی صورت ظاہر ہوتی ہے
کچھ چٹخاتی ہے بدن کو
کچھ خواب سا آنکھوں میں بن دیتی ہے
پہلی محبت کی دھن سی
ایک روشنی کی جگمگاتی کرن سی
چہرے پہ نمودار ہوتی ہے
نظم اپنا آپ کہتی ہے
اور مسکراتی ہوئی
ہاتھ ہلاتی
پھر ملنے کا وعدہ کرکے
دروازے کا رستہ بھول کے
دیوار سے ٹکرا جاتی ہے
اور کرب سے شعر کی آنکھ بھر جاتی ہے
شاعری اپنا آپ
جس پہ ہو مہرباں
آتے جاتے جب جی چاہےدان کر جاتی ہے
نہ مانے تو ہجر کی شب میں
تپش سوزاں سے چٹختے بدن کو
صبحدم
جیسے بے دم کر جاتی ہے

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دیں گ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Read More

آبله پائ

بےکراں مسافتوں کیآبله پائمرهم گل سے کیامٹا چاهےانگ انگ میں پهیلی هےآرزو کی تھکنلهو نکال کے سارا بدل…
Read More
Glass pices
Read More

زوال

حسن اک زوال میں تھابکھرے ماہ و سال میں تھا وقت کی بےدرد چالوں پہآئینہ بھی سوال میں…
Read More