گم شدہ باغ

Woman standing on grassy field

گم شدہ باغ
ہاں مرے پس منظر میں
موجود ہے اب بھی
مرا گمشدہ باغ
جس کی سیر ہے مرا روز کا معمول ۔۔۔
جس میں خواب بوئے ہیں میں نے
اور آنسووں کی فصل اس احترام میں نہیں کاٹی کہ۔۔۔
تجھ پہ الزام نہ آجائے
پھول چنتی ہوں
کانٹوں سے صرف نظر کرکے
شہد چکھتی ہوں ۔۔۔۔
ہاں وہ کڑواہٹ بھی یاد ہے مجھ کو۔۔۔
جو خواب ٹوٹنے سے مری رگ رگ میں گھلی تھی

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دیں گ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Read More

آبله پائ

بےکراں مسافتوں کیآبله پائمرهم گل سے کیامٹا چاهےانگ انگ میں پهیلی هےآرزو کی تھکنلهو نکال کے سارا بدل…
Read More
Glass pices
Read More

زوال

حسن اک زوال میں تھابکھرے ماہ و سال میں تھا وقت کی بےدرد چالوں پہآئینہ بھی سوال میں…
Read More