چشمه

Woman wearing glasses

کڑی کلی پھردی
چشمه لا کے
کوئی جچدا نئین
کوئ سجدا نئیں
بھاویں لے آۓ
ماپیاں نوں منا کے

Suln glass pic

آج چشمے کے حوالے سے کچھ چیزیں یاد آرہی ہیں
میرا خیال خام تھا کہ چشمہ مجھ پہ بھی شبنم کی طرح جچتا ہے
دادو ریلوے اسٹیشن پر چشمہ لگائے
اترنے والی آخری سواریوں میں سے تھی چشمہ سنبھالتے گھسیٹ گھساٹ کر بڑا سا بیگ بیرونی سیڑھیوں کی طرف پنہچایا.. باہر سارے ٹانگے سواریاں بھر کے ڈگا ڈگ دور جاتے نظر آرہے تھے اگلے پلیٹ فارم کی سیڑھیوں کے پاس ایک فیملی تانگے میں بیٹھ رہی تھی دوسری منتظر تھی دوہی تانگے تھے وہاں اس وقت اور کسی تیسرے تانگے کا امکان کم ہی تھا کہ ٹرین کے ٹائیم والے سواریاں لے کر جاچکے تھے
میں چشمہ لگائے مایوس سا پوز بنائے بڑا سا بیگ رکھے کھڑی تھی
کہ اچانک پچھلا تانگہ دوسری فیملی کی آوازیں نظر انداز کرتا آگے میری جانب بڑھ آیا….. وہ دادو کی تاریخ کا سب سے کم عمر کوچوان تھا جو دس سال کی عمر میں ہی تانگہ چلاتا تھا میں خوش ہو کے بیٹھ گئی مجھ سے زیادہ سرشار میرا کوچوان تھا تانگہ چلاتے ہوئے وہ بار بار پیچھے مڑ کے تو صیفی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا میں بھی کوچوان کی طرف منہ کئے بیٹھی رہی اور اس کی خوشی انجوائے کرتی رہی آخر بیچ رستے میں وہ رہ نہ سکا اور اس نے اظہار تمنا کر دیا
“باجی… وہ مجھے آوازیں دئیے جارہے تھے مگر میں نے کہا نہیں…. میں باجی کو اٹھاؤں گا “
میں نے چشمہ لگی آنکھوں پر….. اپنے لبوں پر بھرپور مسکراہٹ چسپاں کرکے اسکی روح کو اندر تک راضی کیا اور اسکا شکریہ ادا کیا اور کہا
“تم میرے چھوٹے بھائی جو ہو “
یہ سن کر اسکا دماغ اور زیادہ خوشی کے سروں سے بھر گیا
گھوڑے کو اسپیڈ دلا کر… وہ اور جوشیلی آوازیں لگا لگا کر اسے دوڑانے لگا
اللہ اسے سلامت رکھے جہاں کہیں بھی ہو وہ ننھا منھا کوچوان اب تو بڑا ہوگیا ہوگا اور شائید دادو میں چنگچی رکشا چلاتا ہو یا کچھ بہتر ہو اس کی زندگی اگر پڑھ لکھ گیا ہوگا تو ، مگر مجھے آج بھی اسکا بچپن یاد ہے

کالج لائیف میں میں نے ابو جی سے نظر کے چشمے جیسی کالے فریم اور سفید شیشوں والی عینک منگوائی تھی شوقیہ فیشن کرنے کے لئ

قائد اعظم یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اگرچہ اسلام آباد کا ٹمپریچر جنوبی علاقوں سے خاصا بہتر ہوتا ہے مگر گرمیوں میں رنگ برنگی امبریلاز اور سن گلاسز لڑکیوں کے لئے انتہائی ضروری خیال کئے جاتے تھے اس لئے دونوں چیزوں کا اہتمام کیا گیا….. اب نہ جانے کیا فیشن ہے وہاں !؟

بچپن میں امی جی اور باجی نے مجھے ماڈل بنالیا تھا چوڑی دار پاجامے غرارے شرارے اور نہ جانے کیا کیا مجھ پر ٹرائی کیا گیا اب انکا ارادہ تھا ‘لاچا کرتا’ پنچابی فلموں والابھی ٹرائی کیا جائے چار پانچ سال کی عمر میں امی کے دوپٹے کی ساری پہن کر تصویر میں خود ہی کھنچوا چکی تھی جہاں ساتھ ہی دیوار کے ساتھ رکھے جھاڑو کی تصویر بھی آگئی تھی اور میں واقعی کشنی جمعدارنی کی بیٹی لگ رہی تھی کشنی جہاں بھی جھاڑو لگاتے مجھے دیکھتی پیار امڈ آتا اس کی آنکھوں میں اور ایک جملہ ضرور بولتی وہ خوش ہوکر، جس سے فی الحقیقت میں سخت چڑتی تھی
“جیتو… میرے کسن کے ساتھ کی ہے ، یہ تو میری بیٹی ہے “
بہر حال ماڈلنگ کرتے کرتے میری حس فیشن جب بیدار ہوئی نو دس سال کی عمر میں تو پہلا ذاتی تجرباتی فیشن جو میں نے کیا، وہ ابوجی کے ساتھ کراچی سے شاپنگ تھی
اورنج بیل باٹم سرخ سینڈل کالا چشمہ گلے میں سیپیوں اور موتیوں کے زیورات کنگن وغیرہ وغیرہ…. جب ٹرین سے اتر کر اپنے محلے میں نمودار ہوئی تو دونوں چھوٹے بھائی اسلم اکرم دوڑتے ہوئے آئے…. آگ پیچھے سے میرا جائزہ لیا پھر مخمصے میں بھاگ گئے اور دور کھڑے ہوکر سرگوشیاں کرنے لگے
“ابو کے ساتھ جو لڑکی آئی ہے….. یار عذرا لگ رہی ہے…. پر ایک تو کالی بہت ہے اور یہ کپڑے بھی اس کے نہیں ہیں”
پھر میں نے انہیں چشمہ اتار کر دیکھا تو انہیں یقین آیا کہ
!!یہ تو عذرا ہے

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Mother Language title
Read More

ماں بولی

!پنجابیو پنجابی بولوپنجابی لکھوپنجابی پڑھوایویں تے نئیں میں سکھ لئی سی یار پنجابیماں بولی سی جمدیاں میرے نال…
Read More