بے کنارگئ عالم

An infinity sign in the desert with the sun behind it

تو نے اے میرےخدا
یہ جو الفاظ کی قبا اوڑھی ہے
میرے مضمون جاں کا
خلاصہ تو نہیں ہرگز
تو کہ ایک حد تجاوز پذیر
اپنی صفات کے بحر میں
بے کنارگئ عالم ۔۔۔ بے کنارگئ عالم
اور میرا حصار زیست اتنا
کہ زندگی چھو کے بس گزری ہے
ایک لہر سطح آب
ایک لمس موج ہوا
اس پلک جھپکنے کی مہلت میں
شناسائی بھلا کیسے ممکن ہو
کہ در اسرار کی ہر مختصر ساعت
اذن ادراک کی حرف خوری پر
مدعو رکھتی ہے کئی دنیائیں نئی
تیرے حرف بیاں کے اگلے پڑاو
ہزار منزلیں تہہ در تہہ رکھتے ہیں
جبکہ میرا اندیشہ ء نظر
دور تو کیا بہت قریب کے بھی
حقائق میں ترکیب کر نہیں پاتا

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Read More

آبله پائ

بےکراں مسافتوں کیآبله پائمرهم گل سے کیامٹا چاهےانگ انگ میں پهیلی هےآرزو کی تھکنلهو نکال کے سارا بدل…
Read More
Glass pices
Read More

زوال

حسن اک زوال میں تھابکھرے ماہ و سال میں تھا وقت کی بےدرد چالوں پہآئینہ بھی سوال میں…
Read More