وہ ایک درد

Silhouette man standing on field against sky during sunset

اٹھا ہے آج پھر وہی تہہ خانہ ء دل سے
وہ ایک درد جو کب سے سلا رکھا تھا
ہوا ہے پھر سے خاک بہ سبب دوش یاراں
وہ ایک قرض جو ہم نے برسوں سے چکا رکھا تھا
یہی ہے وصف شائید ہم جنوں کے ماروں کا
وہ سب تیر جو سر منزل ہدف نہ ہوئے
خود پیوستہء جاں کئے سنبھالے چلیں
پیش حق قربت جاناں ادا کئے

اسلم مراد

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Read More

آبله پائ

بےکراں مسافتوں کیآبله پائمرهم گل سے کیامٹا چاهےانگ انگ میں پهیلی هےآرزو کی تھکنلهو نکال کے سارا بدل…
Read More
Glass pices
Read More

زوال

حسن اک زوال میں تھابکھرے ماہ و سال میں تھا وقت کی بےدرد چالوں پہآئینہ بھی سوال میں…
Read More