جو گزرے آدم پہ وہ عذاب ہیں اور

3D pixelated landscape block with extruding cubes

زمین کے سینے میں پوشیدہ کئی راز ہیں اور
پر جو گزرے آدم پہ وہ عذاب ہیں اور
طاری ہے ظلمت کی رات روزِ ازل سے
اجالوں میں جلے جو انسان وہ نصاب ہیں اور
کبھی تیروں سے چھلنی ہوا کبھی سنگِ منجیق نے کچلا انسان
پر آگ برسائی جنہوں نے ہیر و شیما پہ وہ قصاب ہیں اور
لوگو! یہ تو سازشِ قدرت ہی نظر آتی ہے
کہ ابھی آنے ہیں جو قابیل سے وہ احباب ہیں اور
مراد ایک عکس سا لرزتا دیکھا ہے لبِ آب
تلے آب جو ڈوب گئے وہ باب ہیں اور

اسلم مراد

ہماری پلیٹفارم پر بڑی تعداد میں تصاویر گوگل امیجز اور پیکسلز سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کا کاپی رائٹ مالکیت ظاہر نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی کاپی رائٹ دعوے ہوں تو ہم فوراً معذرت کے ساتھ تصویر کو ہٹا دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like
Read More

آبله پائ

بےکراں مسافتوں کیآبله پائمرهم گل سے کیامٹا چاهےانگ انگ میں پهیلی هےآرزو کی تھکنلهو نکال کے سارا بدل…
Read More
Glass pices
Read More

زوال

حسن اک زوال میں تھابکھرے ماہ و سال میں تھا وقت کی بےدرد چالوں پہآئینہ بھی سوال میں…
Read More